Urdu

امریکی فوج کی جانب سے وینزویلا میں کی گئی مجرمانہ مداخلت اور ایک برسرِ اقتدار غیر ملکی سربراہِ ریاست کو اغوا کرنا، ٹرمپ کی نئی ”قومی سلامتی حکمتِ عملی“ کا پہلا عملی نتیجہ ہے۔ واشنگٹن مغربی نصف کرہ ارض پر اپنی بالادستی قائم کرنا چاہتا ہے، جسے وہ اپنا ذاتی حلقہ اثر اور اپنے گھر کا صحن سمجھتا ہے اور اس خطے سے کسی بھی ”غیر مغربی طاقت“، خصوصاً چین کو باہر نکالنا چاہتا ہے۔

وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس میں رات دو بجے امریکی سامراج نے وینزویلا کی سرزمین پر ایک مجرمانہ عسکری حملہ کیا۔ خبریں گرم ہیں کہ کاراکاس میں چھ بڑے دھماکے ہوئے ہیں۔

صنعتی انقلاب کی جنم بھومی بننے سے اب تک یورپ ایک طویل زوال سے گزرا ہے۔ اس زوال کا ایک پہلو صنعت کاری کے عمل سے اس کی صنعتی بنیاد کا بتدریج خاتمہ رہا ہے، جس نے 2008ء کے بحران کے بعد زور پکڑنا شروع کیا اور کرونا وبا نے اس کی رفتار کو تیز تر کر دیا۔

ظہران ممدانی کا نیویارک کے مئیر کے طور پر الیکشن امریکہ کی تاریخ میں ایک سوشلسٹ امیدوار کی تاریخی فتوحات میں سے ایک ہے۔ زمین پر موجود سب سے طاقتور سامراجی ملک کے سب سے بڑے شہر اور سرمایہ داری کے دارالخلافہ میں تقریباً دس لاکھ لوگوں نے خود کو ڈیموکریٹک سوشلسٹ کہنے والے امیدوار کو ووٹ دیا، جسے نیویارک ٹائمز نے درست طور پر ’اسٹیبلشمنٹ مخالف غصے میں بڑھاوا‘ قرار دیا۔

غزہ اور اسرائیل میں خوشیاں منائی جا رہی ہیں کیونکہ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی اور حماس کے مذاکرات کاروں کے درمیان مصر میں ایک امن معاہدہ طے پا گیا ہے۔

اس ہفتے اسرائیل میں ایک ”ملکی سطح پر یومِ جنگ بندی“ بھڑک اُٹھا جب نتن یاہو نے غزہ کی فتح اور قبضے کا اعلان کیا، جو دراصل باقی ماندہ یرغمالیوں کی موت کے پروانے پر دستخط کرنے کے مترادف تھا۔

نوجوانوں اور طلبہ نے اس انقلابی تحریک میں قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔ لاکھوں غریب مزدور پورے ملک میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ یہ مزدور طبقے کی طاقت دکھانے اور حکمران طبقے کو لرزا دینے کے لیے کافی ہے۔ لیکن یہ ہماری مطالبات جیتنے کے لیے کافی نہیں ہے، ہمارے حتمی مقصد کو حاصل کرنا تو دور کی بات ہے جو کہ ہماری زندگیوں اور معاشرے کی بنیادی تبدیلی ہے اور مزدور طبقے کے استحصال، جبر اور غربت کا خاتمہ ہے جبکہ امیر لوگ مزید امیر ہوتے جا رہے ہیں۔

پیر کے دن، اچانک ہی ہزاروں نوجوان انڈونیشیا کی سڑکوں پر نکل آئے۔ وہ پارلیمنٹ کی عمارت کے سامنے جمع ہوئے اور بہادری کے ساتھ پانی کی توپوں سے لیس سینکڑوں پولیس اہلکاروں کا سامنا کرتے ہوئے ”پارلیمنٹ مردہ“ کا نعرہ لگاتے رہے۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں آدھی رات کے بعد تک جاری رہیں۔ صبح تک 400 افراد کو گرفتار کر لیا گیا، جن میں تقریباً 200 سکول کے طلبہ بھی شامل تھے۔

ہم سرمایہ داری کے آج تک کے سب سے بڑے بحران سے گزر رہے ہیں۔ عدم مساوات اپنی نئی حدوں کو چھو رہا ہے۔ موجودہ دور میں دوسری عالمی جنگ کے بعد کی سب سے زیادہ جنگیں جاری ہیں، اور عالمی معیشت سُست روی، مہنگائی اور بھاری قرضوں میں دبی ہوئی ہے۔ ٹرمپ دوبارہ منتخب ہو چکا ہے، اورعالمی جنگ کے بعد امریکہ کی بالادستی میں بننے والے ورلڈ آرڈر کی بنیادیں لرز رہی ہیں۔

اگست کے مہینے میں، یکم سے آٹھ تاریخ کے درمیان، اٹلی میں انقلابی کمیونسٹ انٹرنیشنل کی پہلی کانگریس منعقد ہو گی۔ اس میں دنیا بھر سے سینکڑوں مندوبین شرکت کریں گے جو کہ ہزاروں کمیونسٹوں کی نمائندگی کر رہے ہوں گے جو دنیا کے ہر براِعظم سے اس کو آن لائن دیکھیں گے۔ آج سے پہلے کبھی نہ دیکھے گئے عالمی انتشار کے عہد میں یہ کانگریس اپنی نوعیت میں منفرد حیثیت کی حامل ہو گی۔

ہم دنیا میں تند و تیز تبدیلیوں کے عہد سے گزر رہے ہیں۔ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کا بطور صدر انتخاب اور اس کی پالیسیوں نے عالمی سیاست، معیشت اور تعلقات میں دیوہیکل عدم استحکام پیدا کر دیا ہے۔

ہفتہ کے دن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترتھ سوشل پر لکھا کہ ”امن کا یہی وقت ہے“۔ اسی دن امریکہ نے ایران پر جدید تاریخ کا سب سے بڑا عسکری حملہ کیا۔ یورپی قائدین نے ٹرمپ کی حمایت کی، جن میں اس کا ڈاؤننگ سٹریٹ کا وفادار غلام بھی شامل تھا۔ سب نے ایران پر دباؤ ڈالا کہ ”ضبط“ کا مظاہرہ کرو، ”اشتعال انگیزی ختم کرو“ اور مذاکرات کی میز پر واپس آ بیٹھو۔

یہ تحریر لکھتے وقت پوری دنیا کی توجہ کا مرکز ایک شخص ہے۔ اس کا ہر لفظ حیران کن تفصیل سے اس امید پر پرکھا، تولا اور تجزیہ کیا جا رہا ہے کہ کچھ سمجھ لگے اس کے کچھ معنی ہیں بھی یا نہیں۔