ایک عَلم اور جنگ کا منصوبہ تیرے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکنتو اس آنچل سے اک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھامجاز لکھنوی کی یہ نظم 1930ء کی دہائی میں لکھی گئی تھی لیکن اس میں تحریر سے نصف صدی قبل افغانستان کے ایک واقعے کی گونج سنائی دیتی ہے۔میوند کی ملالئی جولائی 1880ء میں میدان جنگ میں ماری گئی جب اس کی عمر صرف 17سال تھی اور وہ برطانوی اور ہندی افواج کے خلاف دوسری افغان جنگ میں برسرِ پیکار تھی۔ کہا جاتا ہے کہ ملالئی نے، جسے ملالہ بھی کہا جاتا ہے،اپنے دوپٹے سے عَلم بنایا اور زندگی و موت کی جدوجہد میں اپنے افغان ساتھیوں قیادت کی۔
بھٹو! تیرا وعدہ کون نبھائے گا؟ پیپلز پارٹی2013ء کی انتخابی مہم کا آغاز چیئر مین ذولفقار علی بھٹو کے 34 ویں یومِ شہادت (4 اپریل) کو کر رہی ہے۔ ذولفقار علی بھٹو کی شخصیت اور خصوصاً ان کی شہادت اس ملک کی طبقاتی کشمکش کی تاریخ میں بے پناہ اہمیت کے حامل ہیں۔ اسی نسبت سے وہ پاکستان کی عوامی سیاست میں ایک میراث ایک روایت کا درجہ اختیار کر گئے تھے، لیکن ایسی تاریخی روایات روزروز جنم نہیں لیتیں بلکہ ان مخصوص غیر معمولی لمحات، واقعات اور حالات میں ابھرتی ہیں جب محنت کش تاریخ کے میدان میں ایک انقلابی تحریک میں طبقاتی بنیادوں پر یکجا ہو کر اترتے ہیں۔ ایسے حالات میں سماج ایک انقلابی کیفیت میں داخل ہو جاتا ہے اور محنت کش طبقات اس بوسیدہ استحصالی نظام اور اس کی پروردہ سرمایہ دارانہ ریاست کو اکھاڑ کر ایک نئے سماج...
پاکستان: جمہوریت کا جشن، آدمیت کا ماتم 24 مارچ کو سابق صدر اور جنرل پرویز مشرف کراچی ایئر پورٹ پر پہنچے اور ایک ایسے جلسہ عام سے خطاب کیاجس میں عوام کا شائبہ تک نہیں تھا۔ آئین، قانون اور پارلیمانیت ایسی ہولناک قیاس آرائیاں ہیں جنہوں نے پاکستانی نام نہاد دانشوروں کو عجیب و غریب سیاسی توہمات کا شکار کردیا ہے
کارل مارکس کے ناقابلِ شکست نظریات نجانے کتنی مرتبہ ہم نے یونیورسٹی پروفیسروں، ماہرینِ معاشیات، سیاست دانوں اور صحافیوں کو یہ دعویٰ کرتے سنا ہے کہ مارکس غلط تھا اوراگرچہ اسے سرمایہ داری کے متعلق تھوڑا بہت علم ضرور تھا لیکن وہ سرمایہ دارانہ نظام کی توانائی اور اسکے بحرانات سے نکل کر ہمیشہ آگے بڑھنے صلاحیت کو سمجھنے میں ناکام ہو گیا تھا۔ لیکن گزشتہ چند برسوں کے دوران جب یہ نظام تاریخ کے بد ترین بحران میں دھنستا چلا جا رہا ہے تو وقتاً فوقتاً ’ماہرین‘ یہ کہتے پائے جارہے ہیں کہ مارکس درست تھا۔ اس کی تازہ ترین مثال جریدہ ٹائم میں 25 مارچ 2013ء کو چھپنے والا ایک مضمون ہے جس کا عنوان ہے ’مارکس کا...
23 مارچ: بھگت سنگھ کا یوم شہادت 23 مارچ 1931ء کو برطانوی سامراج اور سرمایہ داری سے برِ صغیرِہند کے عوام کی آزادی اور نجات کے انقلابی ہیرو بھگت سنگھ اور اس جدوجہد میں شریک اس کے کامریڈوں سکھ دیو تھاپر اور شیوا رام راج گرو کو لاہور سینٹرل جیل میں تختہ دار پرلٹکا دیا گیا تھا۔ برطانوی سامراجی حکومت اپنے خلاف عوامی تحریک میں بائیں بازو کے ریڈیکل رجحان کے ابھرنے سے بہت خوفزدہ تھی۔ ان نوجوان انقلابیوں کو تو موت کی نیند سلا دیا گیا لیکن ان کے قتل کے بعد ابھرنے والے عوامی غم و غصے اور بغاوت نے نو آبادیاتی حکومت کو ہلا کر رکھ دیا۔ ہندوستان کی صورتحال کے متعلق 1932ء میں یہاں آئے ہوئے ایک برطانوی پادری سی ایف اینڈریوز نے لکھا کہ ’’ ہندوستان کی موجودوہ کیفیت انیس سو سال قبل کی سلطنتِ روم جیسی ہے۔ وہاں بھی...
کانگریس 2013: اختتامی لمحات طبقاتی جدوجہد کی 32ویں کانگریس کے اختتام پر دنیا بھر سے شرکت کرنے والے کامریڈز، کامریڈ جواد کے سنگ مزدوروں کا عالمی ترانہ ’انٹرنیشنل‘ گارہے ہیں۔
مذہبی جنون کے کاروبار لاہور کے مرکزی علاقے بادامی باغ میں واقع عیسائیوں کی بستی جوزف کالونی میں 178 گھروں کو مذہبی جنونیت کے زیرِ اثر جلا کر راکھ کر دینے کے واقعہ نے ایک مرتبہ پھر سے پاکستانی سماج میں سرائیت شدہ بیماری کو عیاں کر دیا ہے۔ ایک غضب ناک ہجوم کے ہاتھوں ہونے وا لے اس وحشیانہ حملے کی وجہ ایک عیسائی نوجوان کی جانب سے مبینہ طور پر شراب کے نشے میں ایک مسلمان دوست کے ساتھ ہو نے والی تکرار کے دوران کہے گئے ’’توہین آمیز کلمات‘‘ بتائی جا رہی ہے۔
ویڈیو: ہوگو شاویز کی وفات پر عالمی مارکسی رجحان کا پیغام کامریڈ فریڈ ویسٹن، طبقاتی جدوجہد کی 32ویں کانگریس میں ہوگو شاویز کی وفات پر عالمی مارکسی رجحان (IMT) کا دنیا بھر کے محنت کشوں اور نوجوانوں کے نام پیغام پڑھ کر سنا رہے ہیں۔
اداریہ جدوجہد: بانجھ انتخابات پاکستان کی حکمران سیاسی اشرافیہ ایک مرتبہ پھر انتخابات میں حصہ لینے کے لیے سرگرم ہے۔ میڈیا ان انتخابات کے گرد بحثوں کو بڑھاوا دے رہاہے۔ ایک طرف دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر انتخابات کے انعقاد کے بارے میں ہی خدشات کا اظہار کیا جارہاہے تو دوسری طرف جمہوریت اور انتخابات کے لیے ہر کوئی زیادہ سے زیادہ جتن کرنے کے ناٹک کر رہا ہے۔ عوام کو یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ یہ انتخابات ان کے تمام مسائل حل کر دیں گے۔ ان کو اتنا مخدوش اس لیے بنایا جارہا ہے کہ محنت کش ان کے لیے ترسیں اور بلک بلک کر ان حکمرانوں اور ان کی پروردہ ریاست سے ان انتخابات کے انعقاد کے لیے فریاد کریں۔
کانگریس 2013ء: پاکستان کی تاریخ میں مارکس وادیوں کا سب سے بڑا اکٹھ 9 اور 10مارچ کو ’’طبقاتی جدوجہد‘‘ کی 32ویں کانگریس کے موقع پر پاکستان بھر سے ہزاروں مارکسسٹ ایوان اقبال لاہور میں اکٹھے ہوئے۔ ہم اپنے قارئین کے لئے اس کانگریس کی مکمل رپورٹ شائع کرر ہے ہیں۔
منظورات الثورة في الشرق الأوسط - الجزء الثاني كما شرحنا في الجزء الأول، الثورة العربية أسقطت عدة أنظمة استبدادية، ولكن بسبب غياب بديل ثوري عمالي واضح، تم ملئ الفراغ من قبل الأحزاب الإسلامية. ولكن فور وصولها إلى السلطة، بدأت هذه القوى تكشف عن طبيعتها الحقيقة الرجعية، وبذلك أعدت الأرضية لموجة ثانية من الحراك. مما أثر على سوريا وباقي دول المنطقة؟
انقلابِ ونزویلا: شاویز کی موت کے بعد؟ ’’ہر گزرتے دن کے ساتھ میرا یقین اس بات پر پختہ ہو تا جارہا ہے کہ انسانیت کو اب سرمایہ دارانہ سماج سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ لیکن سرمایہ دارانہ طریقوں سے سرمایہ داری کا خاتمہ ممکن نہیں بلکہ ایسا سوشلزم کے ذریعے ہی کیا جاسکتا ہے، حقیقی سوشلزم کے ذریعے جو برابری اور انصاف پر مبنی ہو۔ میں اس بات کا بھی قائل ہوں کہ ایسا جمہوری طریقہ کار سے کیا جاسکتا ہے، لیکن وہ جمہوریت نہیں جو واشنگٹن دنیا بھر پہ تھونپتا ہے۔‘‘ (ہوگو شاویز، 31 جنوری 2005)
کوکا کولا ایمپلائز یونین گوجرانوالہ کی ریفرنڈم میں شاندار فتح دنیا کی انتہائی منافع بخش ملٹی نیشنل کمپنی کوکا کولاپاکستان میں بھی اپنے شرح منافع کے لئے مزدوروں کا بدترین استحصال کر رہی ہے۔ اس منافع بخش ادارے میں ملازمین کو روزگار کا تحفظ حاصل نہیں جس کی وجہ سے آئے دن جبری برطرفیوں کا سلسلہ جاری ہے۔کوکاکولا گوجرانوالہ میں 600 سے زائد ورکر ڈیلی ویجز پر ٹھیکیداری نظام کے تحت کام کر رہے ہیں جن کی تنخواہ سرکاری طورپر 9000 روپے ظاہر کی جاتی ہے لیکن انہیں 5سے 6ہزار روپے ماہانہ ادا کیے جاتے ہیں۔
تیونس میں عام ہڑتال؛ دوسرے انقلاب کی طرف بڑھتے قدم مورخہ 6 فروری کی صبح بائیں بازو کے نمایاں رہنما چوکری بیلید کو ان کے گھر کے سامنے قتل کر دیا گیاجس کے رد عمل میں ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور حکمران جماعت النہدا پارٹی کو قتل کا ذمہ دار گردانتے ہوئے اسکے دفاتر کو آگ لگا دی۔
خون میں ڈوبا بلوچستان بلوچستان میں ہزارہ اہلِ تشیع کے ہولناک، بے رحم اور لامتناہی قتل عام نے اس خطے میں بھڑکتی ہوئی آگ، قومی سوال اور فرقہ وارانہ تصادم کی پیچیدگی کو ایک مرتبہ پھر انتہائی دلخراش انداز میں بے نقاب کر دیا ہے۔