Urdu
فلسطین کے رستے ہوئے زخم
گزشتہ ہفتے ایک دفعہ پھرغزہ جل رہا تھا۔ اسرائیل کی رجعتی ریاست کی بے رحم جارحیت نے سینکڑوں بشمول عورتوں اور بچوں کو ہلاک اور اپاہج بنا دیا ہے۔ یہ ایک دفعہ پھر صیہونی اشرافیہ اور مشرق وسطیٰ میں سامراج کی بیرونی چوکی کی خونخواری کو عیاں کر رہا ہے۔ غز ہ پر قاتلانہ ’’آپریشن سیسہ پلانا‘‘ (Operation Cast Lead) کے چار برس بعد، 14نومبر 2012ء کو اسرائیلی فوج نے ایک اور تباہ کن حملہ کیا جس کا نام ’’دفاع کا مینار‘‘ (Pillar of Defence) رکھا گیا۔ ’’سیسہ پلانے‘‘ کے آپریشن کی طرح یہ بھی جنوری 2013ء میں ہونے والے اسرائیلی انتخابات سے چند ہفتے پہلے کیا گیا۔ ملک کو درپیش سماجی اور معاشی مسائل سے ووٹروں کی توجہ ہٹانے کے لیے فوجی آپریشن شروع کر دینا اسرائیلی حکومتوں کی پرانی سیاسی روایت ہے۔ غز
...غزہ پر اسرائیلی جارحیت؛ مقاصد کیا ہیں؟
15نومبر کی صبح اسرائیل نے حماس کے رہنمااحمد الجباری کو غیر عدالتی طور پر قتل کر دیا۔ اس واقعے کے بعد اسرائیل اور غزہ کے درمیان خونی تنازعے کا آغاز ہو گیا۔ یہ تمام تر سلسلہ پہلے سے سوچی سمجھی اشتعال انگیزی کی پیداوار تھا۔
عوام کب اٹھیں گے؟
کھوکھلی بحثوں میں بے معنی سیاسی لفاظی کے تند و تیز شور کے باوجود سماج پر سیاسی لاتعلقی کی ملالت چھائی ہوئی ہے۔ اگرچہ مجبور عوام کی جانب سے خوفناک سماجی اور معاشی حملوں کے خلاف وقفے وقفے سے لا تعداد مظاہرے اور تحریکیں چلی ہیں لیکن ایک بڑے پیمانے کی عوامی تحریک ابھی تک سامنے نہیں آئی۔ کلبی سوچ کے تحت دانشور محنت کشوں اور عوام کو عاجز، غلام، بزدل، ناتواں اور کرپٹ ہونے کا دوش دیتے ہیں۔ ان کی اکثریت اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ طبقاتی جدوجہد کا خاتمہ ہو چکا ہے اور استحصال و جبر کے خلاف اب کبھی بغاوت نہیں اٹھے گی۔
پہلی یورپ گیر عام ہڑتال
14نومبر کو سارے یورپ میں طبقاتی جدوجہد کاایسا طوفان آیا جس کی مثال پہلے کبھی نہیں ملتی۔ 23 ممالک میں چالیس یونینوں نے عام ہڑتالیں، ہڑتالیں، احتجاج اور مظاہرے کیے۔ یہ سب ان کٹوتیوں کے اقدامات اور معیارِ زندگی پر کیے جانے والے حملوں کے خلاف ہوا جو بر سر اقتدار حکومتیں اس بر اعظم میں بوسیدہ اور بحران زدہ سرمایہ دارانہ نظام کو بچانے کے لیے کر رہی ہیں۔ اس ’یومِ عمل و یکجہتی‘ کی کال یورپی ٹریڈ یونین کنفیڈریشن نے دی تھی جس کی وجہ نیچے سے ان محنت کشوں اور نوجوانوں کا بڑھتا ہوا دباؤ ہے جو اجرتوں، پینشن، سماجی سہولیات میں ہونے والی کمی اور دیگر کٹوتیوں سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ بارسلونا کے مظاہرے میں کمیونسٹ ٹریڈ یونین فیڈریشن (CCOO) کے بینر پر لکھا تھا ’’ہم اس
...پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے
کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئیں ہیں جبکہ غیر متوقع طور پر بادشاہ کے خلاف نعرے سننے کو مل رہے ہیں۔
سپین انقلاب کی دہلیز پر
جولیا ایس ویدانیا، ایڈنبرگ، سکاٹ لینڈ میں رہتی ہیں لیکن ان کا تعلق سپین سے ہے۔ حال ہی میں جولیا اپنے آبائی شہر میڈرڈ گئیں۔ سرمایہ داری کے جاری بحران اوریورپ میں ہونے والی پے در پے کٹوتیوں نے سماج کی ساری ٹھاٹھ باٹھ کے تانے بانے ادھیڑ کے رکھ دیے ہیں جس کے نتیجے میں وہاں طبقاتی جدوجہد مزید گہری اور شدید ہوتی چلی جارہی ہے۔ اپنے اس مضمون میں جولیا نے وہاں موجود انقلابی کشمکش اور سماجی تناؤ کو اپنا موضوع بنایاہے۔
سروینٹیز کے شاہکار ناول ’’ ڈان کیخوٹے‘‘ کی 400ویں سالگرہ پر ایلن ووڈز کی خصوصی تحریر، پہلا حصہ
س سال ڈان کیخوٹے،اسپین کے ادب کی عظیم ترین تخلیق، کی پہلی اشاعت کو 400برس ہو گئے ہیں۔محنت کش طبقہ، یعنی وہ طبقہ جو ثقافت کے تحفظ میں سب سے زیادہ دلچسپی رکھتا ہے، اسے اس سالگرہ کوجوش وخروش سے منانا چاہیے۔یہ پہلاعظیم جدیدناول تھا، جو ایسی زبان میں لکھا گیا جسے عام لوگ سمجھ سکتے تھے۔ یہ مارکس کی پسندیدہ کتابوں میں سے ایک تھا، جو وہ اپنے بچوں کو پڑھ کے سناتا تھا۔
آخری حصہ: چی گویرا کون تھا اور کس مقصد کے لئے لڑا؟
چی گویرا کی 45ویں برسی پر اس عظیم انقلابی کی زندگی، جدوجہد اور نظریات کے بارے میں شائع کئے جارہے ایلن ووڈز کے مضمون کا چوتھا اور آخری حصہ پیش کیا جارہا ہے۔ بقیہ حصوں کے لنک صفحے کے آخر پر ملاحظہ فرمائیں۔
حصہ سوئم: چی گویرا کون تھا اور کس مقصد کے لئے لڑا؟
چی گویرا کی 45ویں برسی پر اس عظیم انقلابی کی زندگی، جدوجہد اور نظریات کے بارے میں شائع کئے جارہے ایلن ووڈز کے مضمون کا تیسرا حصہ پیش کیا جارہا ہے۔بقیہ حصوں کے لنک صفحے کے آخر پر ملاحظہ فرمائیں۔
کویت: ملک کی تاریخ کے سب سے بڑے احتجاجی مظاہرے
21اکتوبر، بروز اتوار تقریباً 150000سے زیادہ لوگ، جو کہ کویت کی آبادی کا 5فیصد جبکہ کل کویتی شہریوں کا 15فیصد بنتا ہے، احتجاج کرتے ہوئے دارلحکومت (کویت سٹی) کی سڑکوں پر امڈ آئے۔کویت کی تاریخ کے یہ سب سے بڑے مظاہرے حکومت کی جانب سے الیکشن قوانین میں تبدیلی کے خلاف تھے جسے اپوزیشن نے آئین پر حملہ قرار دیا ہے۔2006ء سے اب تک کویت کا امیرشیخ صبا الاحمد الصباح، چھ بار کویت کی پارلیمنٹ کو تحلیل کر چکا ہے۔آخری بار اس سال 20جون کو پارلیمنٹ کو فارغ کیا گیا ہے۔
حصہ دوم: چی گویرا کون تھا اور کس مقصد کے لئے لڑا؟
چی گویرا کی 45ویں برسی پر اس عظیم انقلابی کی زندگی، جدوجہد اور نظریات کے بارے میں شائع کئے جارہے ایلن ووڈز کےمضمون کا دوسراحصہ پیش کیا جارہا ہے۔بقیہ حصوں کے لنک صفحے کے آخر پر ملاحظہ فرمائیں۔
دیوتاؤں کا تصادم
اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے نے ریاست کے اہم ترین اداروں کے درمیان اور ان کے اندر بڑھتے ہوئے اندرونی تنازعات کو عیاں کر دیا ہے، جن اداروں میں دیوتا، سیاسی انتظامیہ، عسکری اسٹیبلش منٹ اور عدلیہ شامل ہیں۔ فیصلے میں دائیں بازو اور مذہبی سیاست دانوں اور جماعتوں کو 1990ء کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کو شکست دینے کے لیے آئی جے آئی ( اسلامی جمہوری اتحاد) بنانے کے لیے کروڑوں روپے دینے پر آئی ایس آئی کی سرزنش کی گئی ہے۔ ملک کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی اوریہ اندرونی اختلافات اور پاکستانی سرمایہ داری کے بحران کی وجہ سے برباد ہوتی معیشت اور بکھرتے ہوئے سماج کے نتیجے میں ریاست کے گلنے
...اوباما بمقابلہ رومنی! کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں؟
یقین نہیں آتا کہ اوباما کو منتخب ہوئے چار سال گزر بھی گئے۔جب سڑکیں نعرے لگاتے ہوئے لوگوں اور ہارن بجاتی ہوئی گاڑیوں سے بھر گئی تھیں اور بے شمار لوگوں کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔بش کے آٹھ سال صدر رہنے کے بعد ’’تبدیلی‘‘ آخر کار آ گئی تھی، کیا یہ واقعی تبدیلی تھی؟ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا یہ بات واضح ہوتی گئی کہ اوباما دراصل بش ہی کا ایک تسلسل تھانہ کہ کسی خوشحالی یا تبدیلی کا علم بردار!
آکوپائی وال سٹریٹ تحریک کا ایک سال
ایک سال پہلے’’آکوپائی وال سٹریٹ‘‘ تحریک نے عوامی شعور میں جنگل کی آگ کی طرح بھڑک اٹھی تھی۔اسی قسم کے احتجاج پچھلے کچھ مہینوں میں دوبارہ منظم اور متحرک کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں، لیکن ابھی تک یہ اپنی جڑیں نہیں بنا سکی۔ آکوپائی وال سٹریٹ کی ان نئی کاوشوں کو دو ہفتے بیت جانے کے بعد ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ محض علاقائی تحریک ہے جو کوئی حقیقی دھماکہ نہیں کرپائے گی۔ لیکن جب نیو یارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کے آکوپائی احتجاجیوں پر گھیراؤ اور چھڑکاؤ کی تصاویر ٹی وی چینلز اور فیس بک پردکھائی دیتی ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے ’’ تنکے نے اونٹ کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے‘‘۔ Zuccotti Park پر قبضے نے لاکھوں امریکی شہریوں کو دکھایا کہ وہ ملک میں چلنے والے معاشی، سیاسی نظام اورعمومی سماجی زوال اور ٹھہراؤ
...سیاسی بے حسی اور پاکستان پیپلز پارٹی
پاکستان کے مجبور و محکوم عوام پر چھائی سیاسی بے حسی، سماج میں سرائیت شدہ گہری پژمردگی اور نا امیدی کا اظہار ہے۔آج سے پانچ برس قبل 18اکتوبر2007ء کو بے نظیر بھٹو کی جلا وطنی سے واپسی نے عوا م میں ایک نئی امید جگا دی۔ کراچی میں ہونے والا عظیم استقبال اوراس کے بعد کی انتخابی مہم نے جو ایک شہ زور تحریک کی شکل اختیار کر گئی، اقتدار کے ایوانوں میں بھونچال پربا کر دیا۔ گھبراہٹ کے عالم میں رجعتی حلقوں نے اس طوفان کے مرکز کا خاتمہ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ بے نظیر بھٹو اس...
کراچی اور لاہور میں محنت کشوں کی ہلاکتیں: رحیم یار خان میں تعزیتی اجلاس
بلدیہ ٹاؤن کراچی اور پلاسٹک فیکٹری لاہور کے شہدا کا بدلہ صرف استحصالی نظام کو بدل کر ہی لیا جا سکتا ہے۔سرمایہ دار اپنے شرح منافع میں اضافے کی خاطر انسانی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔مزدوروں کے حقوق اور تحفظ کے لئے بنائے گئے حکومتی ادارے ایک ڈھونگ ہیں۔اسمبلیوں میں بیٹھے سرمایہ داروں اور جاگیرداروں سے اچھائی کی کوئی توقع مزدوروں کو نہیں ہونی چاہیے۔ان خیالات کا اظہار پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کیمپین کی طرف سے سانحہ بلدیہ ٹاؤن کراچی اور لاہور کے شہداء کے لئے منعقد کئے گئے تعزیتی ریفرنس میں خطاب کرتے ہوئے پارس جان، قمرالزماں خان، سیدزمان، احسان قادری، مسعود افضل، ڈاکٹر اسلم نارو، نعیم مہاندرا، حیدر چغتائی، عبدالرؤف، خلیل بخاری، محمد بوتا، محبوب خان، غلام ربانی بلوچ،
...اداریہ جدوجہد: 18 اکتوبر کی شکست
2007ء میں آمریت اور جمہوریت کا ایک بے ہودہ ملغوبہ بکھرنے لگا تھا۔ معاشی شرح نمو کا تیز ابھار آٹھ سالوں میں سماج میں تضادات کو مٹانے کی بجائے ان کو بھڑکا گیا تھا۔ہر روز 10 ہزار انسان غربت کی لکیر سے نیچے گر رہے تھے۔زندگی مزید اجیرن ہو کر رہ گئی تھی۔ سماج میں اضطراب اور اور ہلچل تیز ہو رہی تھی۔ دہشت گردی کی سامراجی جنگ پورے معاشرے میں خلفشار کو بڑھا رہی تھی۔اس معاشی سماجی اور اقتصادی بحران میں شدت سے حکمرانوں کے ایوان لرزنا شروع ہو گئے تھے۔اس سرمائے کی استحصالی جمہوریت کی متوالی سول سوسائٹی حرکت میں آگئی تھی۔ جابر انہ ریاست کے ایک ہی مقصد اور کردار کے حامل اداروں کے باہمی تضادات جو سماج میں ابھرتے ہوئے لاوے سے پھٹ رہے تھے وہاں عدلیہ کی آزادی کے نام پر اسی نظام کو آسرا دینے
...وینزویلا: انقلاب کی حاصلات کا عوامی دفاع، سوشلزم کی طرف بڑھنے کا وقت آن پہنچا ہے
7اکتوبر، بروز اتوار ہونے والے انتخابات میں وینزویلا کے صدر ہوگو شاویز ایک بار پھر اپنے حریف ہینرک کیپریلس کے 44.54فیصد کے مقابلے میں 54.84فیصدووٹ لے کر مناسب مارجن کے ساتھفتح سے ہمکنار ہوئے۔بولیوارین انقلاب کے سفر میں یہ ایک اور اہم فتح ہے جسے انقلاب کو منزلِ مقصود تک پہنچانے کے لئے استعمال کیا جانا چاہیے۔
حصہ اول: چے گویراکون تھا اور کس مقصد کے لئے لڑا؟
آج پوری دنیا میں انقلابی نوجوان، حریت پسند اور محنت کش چے گویرا کی 45ویں برسی منا رہے ہیں۔8اکتوبر1967ء کوCIAکی اطلاع پربولیویا کے 1800سے زائد سپاہیوں نے ’یورو روائن‘کے علاقے میں واقع چے گویرا کے گوریلا کیمپ کا محاصرہ کر لیا۔چے کے بہت سے ساتھی اس لڑائی میں مارے گئے اور وہ خود، دو گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہوگیاجس کے بعد اسے گرفتار کر کے ’لا ہیگویرا‘ میں واقع عارضی فوجی چوکی میں لایا گیا۔گرفتاری کے بعد چے نے انٹیلی جنس افسروں کے کسی سوال کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔اگلے دن 9اکتوبر کی دوپہر کو بولیویا کے صدر رین بیرینٹوس کے حکم پر، چے کو گولی مار کے قتل کر دیا گیا۔مرنے سے کچھ منٹ پہلے ایک بولیوین سپاہی نے چے سے پوچھا ’’کیا تم اپنی لافانی زندگی کے بارے میں سوچ رہے ہو؟‘‘، چے نے
...نیشنل یوتھ مارکسی سکول (سمر) 2012ء؛ مکمل رپورٹ
سوات ایسی جگہ ہے جو لوگوں کے لئے طالبان اور مذہبی انتہا پسندی کے حوالے سے جانی جاتی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ پہلے طالبان اور مذہبی انتہا پسندوں کی آماجگاہ رہی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ اس کہ ایک لمبے عرصے تک یہ خطہ پاکستانی فوج اور اس کے اپنے ہی پیدا کردہ خونی درندوں کے درمیان میدان جنگ بنا رہا ہے۔ لیکن اس لڑائی کے دوران بھی وہاں پر موجود کامریڈز نے اس عمل کی حقیقت کو ہر ایک موقع پر لوگوں کے سامنے ایکسپوز کیا اور وہاں کے غریب عوام کے ساتھ کھڑے رہے اور جبر کا نشانہ بھی بنتے رہے۔ مگر اب وہی خطہ مارکسی نظریات اور قوتوں سے لیس ہو رہا ہے اور اس سلسلے میں 13، 14 اور 15جولائی کو تین روزہ نیشنل مارکسی سکول کا انعقاد سوات میں کیا گیا۔جس میں پورے پاکستان سے 225کامریڈز شامل
...
Page 27 of 36