Urdu
صادق آباد: یوم مئی کے موقع پر ہزاروں محنت کشوں کی شاندار ریلی
’سیاسی پارٹیاں مزدور دشمن قوانین اور کنٹریکٹ لیبر کے خاتمے کا اعلان کریں، آئی ایم ایف کے عوام دشمن ایجنڈے سے لاتعلقی کا عہد کریں اور تمام برطرف مزدوروں کو بحال کرنیکا وعدہ کریں، سرمایہ داری کے خاتمے اور مزدوروں کے استحصال کے تمام ذرائع ختم کرنے کا اعلان کریں ۔پیداوار پر مزدور کا حق تسلیم کیا جائے۔مزدوروں کو بتایا جائے کی حکمران طبقے نے پچھلے چونسٹھ سالوں میں مزدوروں کیلئے کیا کیا ہے اور اب اگلے پانچ سالوں میں انکے پاس کونسا پروگرام ہے۔مزدوروں پر معاشی حملے کرنے والوں کو ووٹ کیوں دیا جائے اور جن پارٹیوں کا معاشی ایجنڈا ’’منڈی کی معیشت‘‘ کے اصولوں کی تابعداری ہے وہ مزدوروں سے کس منہ سے ووٹ مانگتے ہیں۔شکاگو کے شہیدوں نے آٹھ گھنٹے کے کام کے لئے اپنی جان کی قربانی دی مگر پاکستان
...یوم مئی، ناقابلِ مصالحت طبقاتی کشمکش کا علمبردار
اس کرہ ارض پر حصول زر کے لیے ایک حشر بپا ہے۔ ایک طبقہ دولت کے انبار اور اثاثوں کے لاامتناعی اضافے کی اندھی دوڑ میں ہر قدر، ہر انسانی احساس اور معاشرتی زندگی کی تہذیب کو روندتا چلا جارہا ہے۔ ہوس کی اس وحشت میں حکمران طبقہ اگرچہ آپس میں برسرپیکار ہے اور اس کے مختلف دھڑوں کے درمیان لوٹ مار کی تقسیم پر جاری تصادم، سماج کو جہنم بناتا جارہا ہے لیکن لوٹ مار، استحصال اور حکمرانی کی ضمانت فراہم کرنے والے سرمایہ دارانہ نظام کی حفاظت اور اس کی بقا کے لئے حکمران ہمیشہ متحد ہوتے ہیں۔
ایم کیو ایم اور پنجاب
پچھلے چند ماہ میں ایم کیو ایم نے اپنے آپ کو ’’ملک گیر‘‘ ’’قومی‘‘ پارٹی بنانے کا عمل تیز تر کردیا ہے۔اس میں کشمیر اور بلتستان میں انتخابات میں حصہ لینے اور ’’ووٹ بینک‘‘ حاصل کرنے کے بعد پنجاب پر ایک بڑے پیمانے کی یلغار شروع کردی گئی ہے۔ اپریل میں لاہور اور ملتان میں ہونے والے ’’کنونشنوں‘‘ سے پیشتر کراچی کے ناظم اور ایم کیو ایم کے مختلف وزرا اورطاقت ور شخصیات نے پنجاب کے بہت سے خفیہ اور نیم خفیہ دورے کیے۔ ان میٹنگوں میں اس ملک میں عمومی حکمران سیاست کی طرز پر’’ اہم‘‘ صحافیوں‘ ’’معتبر‘‘ شخصیات اور سیاست کے پر اثر افراد کو مدعو کیا گیا۔
آمریتوں کا آسیب
جب قدیم روم کا غلام دارانہ سماجی واقتصادی نظام دم توڑنے لگا اور معاشرہ شدید اضطراب، بے چینی اور خلفشار کا شکار ہوگیا تھاتوسماج کے اوپر مسلط شہنشاہوں کو نیچے سے بغاوت کا خطرہ لاحق ہوا۔ اس جھنجلاہٹ میں ان رومن شہنشاہوں نے افریقہ سے اناج درآمد کرنے کی بجائے شیر منگوانے شروع کردیئے اور روم کے کلازیم (شہر کے سب سے بڑے سٹیڈیم وتھیٹر) میں ان کو غلاموں پر چھوڑ کر خونریزی کا ایک ہولناک تماشا شروع کروایا گیا۔ غذائی قلت اور محرومیوں سے توجہ ہٹانے کے لئے عوام کو ان وحشت ناک تماشوں میں ذہنی طور پر غرق کرنے کاکھیل شروع کردیا گیا، لیکن یہ گھناؤنا کھلواڑ بھی زیادہ دیر چل نہیں سکا اور ناگزیر طور پرسلطنت روم کا انہدام ہو کر رہا۔ پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کی سفاک آمریت میں بھی ظلم ودرندگی کا
...رحیم یار خان میں یونی لیور احتجاجی کیمپ پر ریاستی دہشت گردی کے خلاف احتجاجی مظاہرے
DPOرحیم یار خان کو برطرف کرو! تمام برطرف ملازمین کو بحال کرو!
وینزویلا: انقلاب اور انتخابات
گزشتہ اتوار کو وینز ویلا میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں 1.6 فیصد کے قلیل فرق سے نکولس ماڈورو کی فتح کے بعد سے انقلابِ وینزویلا کو لاحق خطرات کھل کر سامنے آ چکے ہیں۔ یہ انقلابی عمل اپریل 2002ء تب شروع ہوا جب امریکی سامراج کی پشت پناہی سے فوجی اشرافیہ کے ایک دھڑے نے صدر ہوگو شاویز کا تختہ الٹنے کی کوشش کی۔ اس کُو (Coup) کے جواب میں وینزویلا کے محنت کشوں، نوجوانوں، فوج کے سپاہیوں اور نوجوان افسروں نے بغاوت کر دی، اپنے محبوب لیڈر کی مدد کو عوام لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے۔ عوامی تحریک کے شدید دباؤ اور اس کے قابو سے باہر ہوجانے کے خوف سے امریکی سامراج اور وینزویلا میں اس کے آلہ کاروں کو پسپائی اختیار کرنی پڑی اور فوجی بغاوت کے 48گھنٹے بعد ہی ہوگو شاویز بطور صدر بحال
...دولت کی جمہوریت کا بھنور
دہشت گردی کی درندگی ہو یا مہنگائی غربت اور بیروزگاری کی اذیت، نا خواندگی اور لاعلاجی کا ظلم ہو یا ریاستی جبر میں معصوم انسانوں کے جسموں کے بے حرمت لاشے ویرانوں میں پھینکے جا رہے ہوں، یا پھر بجلی، پانی اور سینی ٹیشن کی اذیت ناک کیفیت ہو۔ ۔ ۔ پاکستان کی وسیع تر آبادی جن عذابوں کا شکار ہے اس سے ان کی زندگی ایک جبر مسلسل کی سزا بن چکی ہے۔
مقدر کے سکندر
یہ کیسا سماج ہے جہاں گاڑیوں کی بہتات ہے اور عوام ٹرانسپورٹ کی اذیت سے دوچار ہیں۔ ہر بندے کے ہاتھ میں موبائل فون ہے لیکن پاؤں میں جوتی نہیں ہے۔محلات نما کوٹھیوں پر مشتمل ہاؤسنگ اسکیمیں اگرپھیل رہی ہیں تو فٹ پاتھوں پر سونے والوں کا ہجوم بھی بڑھ رہا ہے۔ پاکستان ایٹمی طاقت بن چکا ہے لیکن لوڈ شیڈنگ ہے کہ بڑھتی جارہی ہے۔ بجلی جتنی مہنگی ہے اسکی ترسیل اتنی ہی ناقابل اعتماد ہے۔ ایک طرف منرل واٹر کا کاروبار تیزی سے بڑھ رہا ہے اور دوسری جانب گندے پانی سے بیماریوں کی وباکروڑوں زندگیوں کو موت کی آغوش میں دھکیل رہی ہے۔ پرائیویٹ اسکولوں اور تعلیم کا کاروبار زوروں پر ہے لیکن آبادی میں ناخواندگی بڑھتی ہی چلی جارہی ہے۔ امیروں کے لئے فائیو سٹار ہسپتال کھلتے چلے جا رہے ہیں لیکن غریب دوائیوں
...آرٹیکل 62،63 کی منافقت
اس برس ہونے والے عام انتخابات کے لیے امید واروں کی جانچ پڑتال کا سارا عمل ایک منافقانہ تماشہ بن کر رہ گیا ہے۔ ظالم فوجی آمر ضیا الحق کی جانب سے آئین میں شامل کیے جانے والے آرٹیکل 62 اور 63 پر عملدرآمد کروانے کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اہلکاروں کی جنونی کوششوں کے خلاف شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔ مفلوج معیشت، سلگتے سماج اور سیاست میں عمومی زوال کا اظہار موجودہ عہد میں اس تباہ حال سماج کی اقدار، اخلاقیات، رویوں اور اطوار میں میں گراوٹ کی صورت میں نظر آتا ہے۔ متوقع امیدواروں سے پوچھے جانے والے شرمناک سوالات اور جمہوریت کے علمبرداروں کے گھٹیا جوابات کسی بے معنی اور بیہودہ ناٹک کی مانند ہیں اور یہ تمام تر ڈرامہ اس ناکام ریاست کے اہلکاروں اور حکمران طبقات کی بیمار ذہنیت کی
...سعودی عرب؛ غیر ملکی محنت کشوں کے لئے بیگار کیمپ
اس سال فروری کے وسط میں سعودی عرب میں ایک سال سے پھنسے ہوئے سات سو پاکستانی محنت کشوں کے ساتھ ہونیوالے فراڈ کی خبر اس وقت منظر عام پر آئی جب ان میں سے ایک محنت کش کی دس فروری کو کام کے دوران حادثے میں موت واقع ہو گئی۔ ترکی کی MAPA نامی تعمیراتی کمپنی نے ایک سال پہلے سات سوپاکستانی محنت کشوں کو ویزے جاری کئے لیکن سعودی عرب پہنچنے پر نہ صرف یہ انکشاف ہوا کہ ان محنت کشوں کو دیئے جانیوالے ویزے جعلی تھے بلکہ ان محنت کشوں کیساتھ مختلف پیشوں اور تنخواہوں کے حوالے سے کئے جانے والے معاہدے بھی جھوٹے ہیں۔
کیا بالشویک انقلاب ایک کُو تھا؟
ٹیڈ گرانٹ کی کتاب ’’روس انقلاب سے ردِ انقلاب تک‘‘ سے اقتباس
ویڈیو: کیا تبدیلی کا نعرہ لگانے والی سیاسی پارٹیاں کوئی تبدیلی لا سکتی ہیں؟
7 اپریل 2013ء کو نشر ہونے والے نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں کامریڈ لال خان، کامریڈ فریڈ ویسٹن اور کامریڈ کلاڈیو بیلوٹی پاکستان اور دنیا کے دوسرے خطوں میں سیاسی تبدیلی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کر ہے ہیں۔
ذوالفقار علی بھٹو کا 34واں یوم شہادت اور پیپلز پارٹی کے وجود کودرپیش چیلنج
چار اپریل کو پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کی چونتیسویں برسی منائی گئی۔ 1979ء کو اس روز پاکستان کی تاریخ کے ظالم ترین آمر ضیا الحق نے انہیں تختہ دار پر قتل کر دیالیکن اگر ہم پیپلز پارٹی کے 1970ء اور 2013ء کے انتخابی منشوروں کا موازنہ کریں تو ان دستاویزات کی معاشی، سماجی اور طبقاتی سیاست میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ حالیہ برس میں آنے والے انتخابات پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ دورِ اقتدار کے بعد منعقد ہو رہے ہیں۔ اس مخلوط حکومت کے دوران معاشی وسیاسی پالیسیاں تباہ کن رہی ہیں اور پیپلز پارٹی کے کئی پرانے کارکنان کو بھی یہ ماننے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ حکومت اور اسمبلیوں کے پانچ سال مکمل کر لینے کو بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے اور جشن منایا جارہا ہے کہ جمہوری
...مارکسی فلسفہ اور جدید سائنس
مارکسزم کی سچائی کو آج پوری دنیا کے حالات ثابت کر رہے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام آج حالتِ مرگ کو پہنچ چکا ہے۔ گزشتہ سال 2011ء انقلابی اٹھانوں کا سال تھا اور ان تمام تر انقلابی تحریکوں نے ثابت کیا کہ یہ نظام انسانوں کو سہولتیں دینے سے قاصر ہو چکا ہے اور اس نظام میں انسانی سماج کو آگے بڑھانے کی سکت ختم ہو چکی ہے۔ مگر یہ اپنی نزع کے عالم میں بھی ہر طرف بربادیاں بکھیر رہا ہے اور نسلِ انسانی ان اذیتوں سے کراہ رہی ہے۔...
پاکستان پوسٹ میں PTUDC کے کامریڈز کی تاریخی فتح
پاکستان پوسٹ آفس ڈائریکٹوریٹ جنرل ایمپلائز یونین اسلام آباد کے انتخابات 11 مارچ 2013 کو منعقد ہوئے۔ انتخابی نتائج کے مطابق PTUDC کے کامریڈز کے انقلابی گروپ نے 70% ووٹ لیکر پیپلز پارٹی قیادت اور نام نہاد ’انقلابیوں‘ کے حمایت یافتہ اتحاد گروپ کو تاریخ کی شرمناک شکست سے دوچار کیا۔ ممکنہ شکست سے بچنے کے لئے اتحاد گروپ نے حالیہ انتخابات کورکوانے کی ہر ممکن کوشش کی اور پیپلز پارٹی کی وفاقی وزارتِ اطلاعات اور پیپلز لیبر فیڈریشن کے حکومتی آشیرباد سے ہائیکورٹ اور NIRC میں دو دفعہ ان انتخابات کے خلاف حکمِ امتناہی حاصل کیا۔
ایک عَلم اور جنگ کا منصوبہ
تیرے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکن
تو اس آنچل سے اک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا
مجاز لکھنوی کی یہ نظم 1930ء کی دہائی میں لکھی گئی تھی لیکن اس میں تحریر سے نصف صدی قبل افغانستان کے ایک واقعے کی گونج سنائی دیتی ہے۔میوند کی ملالئی جولائی 1880ء میں میدان جنگ میں ماری گئی جب اس کی عمر صرف 17سال تھی اور وہ برطانوی اور ہندی افواج کے خلاف دوسری افغان جنگ میں برسرِ پیکار تھی۔ کہا جاتا ہے کہ ملالئی نے، جسے ملالہ بھی کہا جاتا ہے،اپنے دوپٹے سے عَلم بنایا اور زندگی و موت کی جدوجہد میں اپنے افغان ساتھیوں قیادت کی۔
بھٹو! تیرا وعدہ کون نبھائے گا؟
پیپلز پارٹی2013ء کی انتخابی مہم کا آغاز چیئر مین ذولفقار علی بھٹو کے 34 ویں یومِ شہادت (4 اپریل) کو کر رہی ہے۔ ذولفقار علی بھٹو کی شخصیت اور خصوصاً ان کی شہادت اس ملک کی طبقاتی کشمکش کی تاریخ میں بے پناہ اہمیت کے حامل ہیں۔ اسی نسبت سے وہ پاکستان کی عوامی سیاست میں ایک میراث ایک روایت کا درجہ اختیار کر گئے تھے، لیکن ایسی تاریخی روایات روزروز جنم نہیں لیتیں بلکہ ان مخصوص غیر معمولی لمحات، واقعات اور حالات میں ابھرتی ہیں جب محنت کش تاریخ کے میدان میں ایک انقلابی تحریک میں طبقاتی بنیادوں پر یکجا ہو کر اترتے ہیں۔ ایسے حالات میں سماج ایک انقلابی کیفیت میں داخل ہو جاتا ہے اور محنت کش طبقات اس بوسیدہ استحصالی نظام اور اس کی پروردہ سرمایہ دارانہ ریاست کو اکھاڑ کر ایک نئے سماج
...پاکستان: جمہوریت کا جشن، آدمیت کا ماتم
24 مارچ کو سابق صدر اور جنرل پرویز مشرف کراچی ایئر پورٹ پر پہنچے اور ایک ایسے جلسہ عام سے خطاب کیاجس میں عوام کا شائبہ تک نہیں تھا۔ آئین، قانون اور پارلیمانیت ایسی ہولناک قیاس آرائیاں ہیں جنہوں نے پاکستانی نام نہاد دانشوروں کو عجیب و غریب سیاسی توہمات کا شکار کردیا ہے
کارل مارکس کے ناقابلِ شکست نظریات
نجانے کتنی مرتبہ ہم نے یونیورسٹی پروفیسروں، ماہرینِ معاشیات، سیاست دانوں اور صحافیوں کو یہ دعویٰ کرتے سنا ہے کہ مارکس غلط تھا اوراگرچہ اسے سرمایہ داری کے متعلق تھوڑا بہت علم ضرور تھا لیکن وہ سرمایہ دارانہ نظام کی توانائی اور اسکے بحرانات سے نکل کر ہمیشہ آگے بڑھنے صلاحیت کو سمجھنے میں ناکام ہو گیا تھا۔ لیکن گزشتہ چند برسوں کے دوران جب یہ نظام تاریخ کے بد ترین بحران میں دھنستا چلا جا رہا ہے تو وقتاً فوقتاً ’ماہرین‘ یہ کہتے پائے جارہے ہیں کہ مارکس درست تھا۔ اس کی تازہ ترین مثال جریدہ ٹائم میں 25 مارچ 2013ء کو چھپنے والا ایک مضمون ہے جس کا عنوان ہے ’مارکس کا
...23 مارچ: بھگت سنگھ کا یوم شہادت
23 مارچ 1931ء کو برطانوی سامراج اور سرمایہ داری سے برِ صغیرِہند کے عوام کی آزادی اور نجات کے انقلابی ہیرو بھگت سنگھ اور اس جدوجہد میں شریک اس کے کامریڈوں سکھ دیو تھاپر اور شیوا رام راج گرو کو لاہور سینٹرل جیل میں تختہ دار پرلٹکا دیا گیا تھا۔ برطانوی سامراجی حکومت اپنے خلاف عوامی تحریک میں بائیں بازو کے ریڈیکل رجحان کے ابھرنے سے بہت خوفزدہ تھی۔ ان نوجوان انقلابیوں کو تو موت کی نیند سلا دیا گیا لیکن ان کے قتل کے بعد ابھرنے والے عوامی غم و غصے اور بغاوت نے نو آبادیاتی حکومت کو ہلا کر رکھ دیا۔ ہندوستان کی صورتحال کے متعلق 1932ء میں یہاں آئے ہوئے ایک برطانوی پادری سی ایف اینڈریوز نے لکھا کہ ’’ ہندوستان کی موجودوہ کیفیت انیس سو سال قبل کی سلطنتِ روم جیسی ہے۔ وہاں بھی
...
Page 25 of 36